Monday, June 15, 2009

आह ... हबीब तनवीर !!!
थ्येटर के स्तम्भ का गिर जाना

सच में हबीब तनवीर भारतीये थ्येटर के स्तम्भ थे । स्तम्भ इस लिए, क्यूंकि उन्होंने थ्येटर या नाटक को नई शक्ल दी, उसे नया रास्ता दिखाया। स्तम्भ इस लिए भी क्यूँ की उन्होंने अपने काम के द्वारा देश में नफरत के सौदागरों के सामने कभी झुकना नहीं सीखा, और स्तम्भ इस लिए भी क्यूंकि उन्होंने दूसरे लोगों को भी बेखौफ हो कर मुल्क की गंगा जमुनी विरासत को बचाए रखने के लिए संघर्ष करना सिखाया। इसे स्तम्भ ही कहेंगे की उन्होंने अपने जीवन के अन्तिम दिनों तक सिर्फ़ और सिर्फ़ अपने फन यानी ड्रामा और थ्येटर को अपना ओढ़ना बिछौना बनाये रखा। अगरचे मैं उन के इन्तेकाल तक उनके बारे में केवल उतना ही जनता था, जितना कि दूसरे आम लोग .... लेकिन जब राष्ट्रीय सहारा उर्दू ने उन्हें श्रधांजलि अर्पित करने के लिए उसी दिन एक विशेष पेज प्रकाशित करने का निर्णय लिया और मुझे भी इस में कुछ जिम्मेदारी दी गयी तो वाकई उन की शख्सियत के बारे में जान कर हैरत हुई ....... अफ़सोस भी हुआ कि आख़िर इतनी अजीम शख्सियत से मैं अब तक अज्ञान- क्यों था .... बहरहाल मैंने हबीब तनवीर के कुछ साथियों , उन के कुछ चाहने वालों और उन्हें बहुत करीब से जानने वालों से हबीब तनवीर के बारे में गुफ्तगू की ...... उन लोगों ने थ्येटर के भीष्म पितामह के बारे में क्या राये पेश कीं , मैं आप के स्त शेयर करना चाहता हूँ .................. आप को भी उन की अजमत का अंदाजा होगा ........!!!!!!!!!!!!!

यामीन अंसारी


آه حبيب تنوير
هندوستاني تھيٹر كے ستون كا گر جانا
واقعي حبيب تنوير هندوستاني تھيٹر كے ستون تھے۔ستون اس لئے بھي كيوں كه انھوں نے ملك ميں تھيٹر يا ڈرامه كو نئي شكل دي، نئي سمت دي۔ ستون اس لئے بھي كيوں كه انھوں نے اپنے فن كے ذريعه ملك ميں نفرت كے سوداگروں كے سامنے كبھي جھكنا نهيں سيكھااور ںتون اس لئے بھي كيوں كه انھوں نے دوسرے لوگوں كو بھي بے خوف وخطر هو كر ملك كي گنگا جمني تهذيب كي بقا كے لئے جدو جهد كرنا سكھايا۔اسے ستون هي كهيں گے كه انھوں نے اپني زندگي كے آخري دنوں تك صرف اور صرف اپنے فن يعني ڈرامه نگاري كو اپنا اوڑھنا بچھونا بنائے ركھا۔اگر چه ميں ان كے انتقال تك ان كے بارے ميں صرف اتنا هي جانتا تھا، جتنا كه دوسرے لوگ۔ ليكن جب روزنامه راشٹريه سهارا نے انهيں خراج عقيدت پيش كرنے كے لئے جب خصوصي صفحه شائع كرنے كا فيصله كيا اور مجھے بھي اس ميں كچھ ذمه داري دي گئي تو واقعي ان كي شخصيت كے بارے ميں جان كر حيرت هوئي...... افسوس بھي هوا كه آخر اتني عظيم شخصيت سے ميں اب تك بے بهره كيوں تھا۔بهر حال ميں نے حبيب تنوير كے كچھ ساتھيوں ، ان كے كچھ مداحوں اور انهيں بهت قريب سے جاننے والے كچھ لوگوں سے ان كے بارے ميں گفتگو كي...... ان لوگوں نے حبيب تنوير كے بارے ميں كيا رائے پيش كيں ،ميں آپ كے ساتھ بھي شيئر كرنا چاهتا هوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آپ كو بھي ان كي عظمت كا اندازه هوگا


قدامت پسندوں كے آگے نهيں جھكے ايم كے رينا، معروف تھيٹر ڈائريكٹر و آرٹسٹ
حبيب تنوير هندوستاني تھيٹر كے سب سے ضبوط ستون تھے، ان كے انتقال سے پوري ثقافتي،ادبي اور تھيٹر كي دنيا گهرے صدمے ميں هے۔ انھوں نے اپنے ڈراموں اور اسٹيج كے ذريعه آخري دم تك ملك ميں قدامت پرستوں اورشدت پسندوںكے خلاف جو لڑائي لڑي هے وه اس ملك كے لئے بيش قيمتي سرمايه هے۔انھوں نے 50 سال سے زائد عرصے تك اپنے فن كے ذريعه ملك كي جو خدمت كي هے وه آنے والي نسلوں كے لئے مشعل راه هے۔ان كے جانے سے همارے مهذب سماج ميں جوخلا پيدا هوا هے، اس كا پر هونا تو مشكل هے، ليكن اب ان كے كام كو آگے بڑھانے كي ايك بڑي ذمه داري هم لوگوں پر آگئي هے۔ هميں ابھي يه سوچ سوچ كر فكر هو رهي هے كه ان كے بغير آنے والا تھيٹر كيسا هوگا۔ان كے كام كو كس طرح آگے تك لے جانا هے، هميں اب اس بارے ميں سنجيدگي سے غور كرنا هے۔انھوں نے خاص طور پر هندو قدامت پرستوں اور شدت پسندوں كو آخري دم تك چيلنج كيا۔انھوں نے كبھي اس كے لئے ٹكراو كا راسته اختيار نهيں كيا، بلكه هميشه اپنے فن كے ذريعه منھ توڑ جواب ديا۔يهي وجه هے كه زندگي كے آخري ايام ميں بھي وه شدت پسندوں كي آنكھوں ميں كھٹكتے رهے۔ابھي تقريبا دو ماه قبل مدھيه پرديش كي بي جے پي حكومت كے كلچرل ڈپارٹمنٹ كي جانب سے پورے ملك كے فنكاروں كو بلايا گيا، ليكن حبيب تنوير كو مدعو نهيں كيا گيا۔جب ميرے پاس اس كا دعوت نامه آيا تو ميں نے ان سے كها كه ملك كا سب سے بڑا فنكار اور تھيٹر كا ستون آپ كے گھر ميں هي هے اور آپ نے انھيں مدعو تك نهيں كيا ، تو يه فنكاروں كا كيسا اجتماع هے۔ لهٰذا مجھ جيسے نه جانے كتنے لوگ اس پروگرام ميں نهيں گئے۔


پوري زندگي هي تھيٹر تھي پرويز احمد، ايڈيٹر، اے آر وائي اردو چينل
حبيب تنوير گنگاجمني تهذيب كي زنده مثال تھے ، لوگ گنگاجمني تهذيب كي باتيں كرتے هيں، ليكن انهوں نے اپنے فن اور عمل سے يه ثابت كركے دكھايا هے۔اس طرح حبيب تنوير نے هندوستاني تھيٹر كو ايك نئي سمت دي۔وه نه صرف ايك ڈرامه نگار تھے،بلكه وه ايك اداكار، هدايت كار،ڈرامه نويس اور اچھے شاعر بھي تھے۔انھوں نے اپنے ڈراموں ميں هميشه سماج كے سروكاروں كو سامنے ركھ كر كام كيا۔وه هميشه ان لوگوں كے خلاف لڑتے رهے جو سماج كو تقسيم كرنا چاهتے تھے اور ملك ميں نفرت كا بازار گرم كرنا چاهتے تھے۔اگر هم انھيں قريب سے ديكھيں تو انھوں نے اپني پوري زندگي هي جيسے تھيٹر كے لئے وقف كر دي تھي۔ان كے گھر ميں داخل هوتے هي ايسا محسوس هوتا تھا، جيسے كسي تھيٹر ميں آگئے هوں ۔ تھيٹر يا ڈرامه نگاري ان كا پيشه نهيںان كي زندگي كا ايك حصه تھا۔


بے خوف كام كرنے كي ترغيب دي لو كيندر ترويدي، معروف تھيٹر ڈائريكٹر و آرٹسٹ
حبيب تنوير كا انتقال ادب اور تھيٹر كي دنيا كے لئے بهت بڑا نقصان هے۔انهوں نے اپنے ڈراموں كے ذريعه سماج كو ايك سمت دي۔ انھوں نے هميں سكھايا كه كس طرح بے خوف هو كر هميں اپنا كام كرتے جانا هے اور سماج كو اتحاد و اتفاق اور هم آهنگي كي تعليم ديني هے۔وه هميشه انتها پسندي كے خلاف كھڑے رهے۔انھوں نے اس لڑائي ميں يه نهيں ديكھا كه ان كا كيا نقصان هے۔حبيب تنوير نے اپنے فن كا بخوبي استعمال كرتے هوئے هوئے سماج كو ايك منفرد سمت دي اور ايك نظريه پيش كيا كه كس طرح هميں ملك اور قوم كو دنيا ميں نظير بنانا هے۔انھوں نے اپنے ڈراموں ميں عام زندگي كے رنگوں كو لوگوں كے سامنے ركھااور عام هندوستاني كے مسائل اور ان كي پريشانيوں كو پيش كيا۔اب هماري ذمه داري هے كه كس طرح ان كے كام كو آگے لے جانا هے۔


انتها پسندي كے خلاف مضبوط آواز تھے انيس اعظمي، تھيٹر آرٹسٹ
حبيب تنوير كا اس دار فاني سے كوچ كرنا هندوستاني تھيٹر كے لئے بهت بڑا سانحه هے۔يه همارے لئے بڑے افسوس كي بات هے كه ايك ايك كر كے ان كے هم عصر بھي اس دنيا سے جاتے رهے۔ انھوں نے اپني پوري زندگي ميں تھيٹر كے علاوه كچھ نهيں كيا، گويا كه ان كي زندگي هي ايك تھيٹر تھي۔فوك ميوزك اور آرٹ ميں حبيب تنوير كے علاوه پوري صدي ميں كوئي نظر نهيں آتا۔ انھوں نے اس فن ميں جو خدمات انجام دي هيں،اس كا كوئي ثاني نهيں هے۔هندوستان ميں صحيح معنوں ميں برسٹين تھيٹر كے روح رواں تھے۔انھوں نے ايك رهنما كے طور پر برسٹين تھيٹر كو هندوستان ميں فروغ ديا اور لوگوں كو اس سے روشناس كرايا۔ملك ميں انتها پسندي كے خلاف انھوں نے جو آواز بلند كي اس كا اثر هميں بخوبي نظر آتا هے۔ان كے اهم كارناموں ميں ايك كارنامه يه هے كه انھوں نے ملك بھر ميں ڈرامه نگاري پر سيكڑوں وركشاپ كيں،جس سے انھوں نے هزاروںنوجوانوںكو اس فن سے نه صرف روشناس كرايا بلكه انھيں اس فن سے جوڑا بھي هے۔يهي هزاروں نوجوان ان كي خدمات سے روشني حاصل كر كے ان كے بيش قيمتي مشن كو آگے بڑھائيں گے۔ان كي تحريريں، ان كے ڈرامے ، ان كي خدمات اور ان كے چاهنے والے كبھي ان كو مرنے نهيں ديں گے۔


همه جهت شخصيت شرد دت، دور درشن كے سابق ڈپٹي ڈائريكٹر
مجھے ابھي تك ياد هے جب ميں 1964 ميں ان سے پهلي مرتبه ملا تھا۔اس وقت غالب پر ايك خصوصي تقريب كا انعقاد كيا گيا تھا، جس ميں انھوں نے تقريبا 4-5 ڈرامے كئے تھے۔اس ميں ايك ڈرامه غالب كي شخصيت پر تھا، جس ميں انھوں نے غالب كا رول خود كيا تھا۔كهنے كا مطلب يه هے كه حبيب تنوير صرف ايك ڈرامه نگار هي نهيں تھے، بلكه وه ايك ادا كار ، شاعر ، سماجي كاركن اور مكمل همه جهت شخصيت كے مالك تھے۔انھوں نے اپني پوري زندگي تھيٹر كے لئے وقف كر دي تھي۔ان كي اس قرباني كا اندازه اس بات سے لگايا جا سكتا هے كه جب وه راجيه سبھا كے ممبر تھے اور انھيں سركاري بنگله ملا، تو انھوں نے وهاں بھي اپني تھيٹر كي سرگرمياں جاري ركھيں۔ان كے سركاري بنگلے ميں بھي اسيا لگتا تھا جيسے ڈرامه كا اسٹيج تيار هے۔ انھيں كبھي كسي عهدے كا لالچ نهيں رها ۔يهي وجه هے كه وه اپني زندگي كے آخري ايام تك ڈراموں سے وابسته رهے۔


ان كے نا م پر اداره قائم كيا جائے رام گوپال، بجاج، سابق ڈائريكٹر اين ايس ڈي
حبيب تنوير هندوستاني تھيٹر كے ايك اهم ستون تھے۔وه هندوستاني ڈرامه نگاري ميں صدي كي عظيم شخصيت تھے۔انھوں نے ملك ميں تھيٹر كو ايك نئي سمت عطا كي تھي۔وه شمبھو متر اور اتپل دت كي طرح هي ايك بڑے ڈرامه نگار تھے۔حكومت كو چاهئے كه وه حبيب تنوير كے نام پر ڈرامه نگاري كا كوئي نه كوئي اداره قائم كرے۔تاكه ان كے كام كو جاري ركھا جا سكے اور انھوں نے جو خدمات انجام دي هيں ان كا اعتراف كرتے هوئے ان كے مشن كو آگے بڑھايا جا سكے۔


پيش كش يامين
........

Tuesday, May 26, 2009


प्रकाश मेहरा ने अमिताभ को बनाया मुक़द्दर का सिकंदर
कहते हैं कि एक मर्द की कामयाबी में कहीं न कहीं के औरत का हाथ होता है। इसी प्रकार अगर हम कहें कि किसी फ़िल्म अभिनेता के अभिनय और अदाकारी को निखारने में कहीं न कहीं फ़िल्म निर्देशक या प्रोडूसर का हाथ होता है , तो ग़लत नहीं होगा । अमिताभ बचन भारतीये फिल्मों में एक हैसियत रखते हैं । अमिताभ ने हिन्दुस्तानी फिल्मो में सफलताएँ अर्जित की हैं , उन में परदे के पीछे से एक इंसान का ख़ास रोल रहा है । जब भी अमिताभ बच्चन की उपलब्धिओं का ज़िक्र होगा , तब तब प्रकाश मेहरा का नाम ज़रूर सामने आएगा । जी हाँ प्रकाश मेहरा अब हमारे दरम्यान नहीं हैं । उन्होंने न केवल अमिताभ बच्चन के अभिनय को पहचाना , बल्कि उन्हें हिन्दुस्तानी फिल्मों में सदी का अजीम कलाकार बनने का रास्ता भी दिखाया । इस के अलावा प्रकाश मेहरा ने हिन्दी फिल्मो को एक नयी सिम्त दी ।


پركاش مهرا نے اميتابھ كو بنايا ٫مقدر كا سكندر٬

كهتے هيں كه ايك مرد كي كاميابي ميں كهيں نه كهيں كسي عورت كا هاتھ هوتا هے۔ اسي طرح اگر هم كهيں كه كسي فلم اداكار كي اداكاري اور فنكاري نكھارنے ميں كهيں نه كهيں فلم ساز يا هدايت كار كا هاتھ هوتا هے، تو بيجا نه هوگا۔ اميتابھ بچن هندوستاني فلموں ميں سنگ ميل كي حيثيت ركھتے هيں۔ اميتابھ بچن نے فلموں كے ذريعه جو كاميابياںاور بلندياں حاصل كي هيں، ان ميں پردے كے پيچھے سے ايك شخص كا اهم رول رها هے۔ جب بھي اميتابھ بچن كي كاميابي اور ان كي بے مثال اداكاري كا ذكر آئے گا، تب تب پركاش مهرا كا نام ضرور سامنے آئے گا۔ جي هاں، پركاش مهرا، جواب همارے درميان نهيں هيں۔ انهوں نے نه صرف اميتابھ بچن كے اداكارانه جوهركو پهنچانا،بلكه انهيں هندوستاني فلموںميںاعلي مقام تك پهنچنے كا راسته بھي دكھايا۔ اس كے علاوه پركاش مهرا نے هندي فلموں كو ايك نئي سمت بھي دي۔ اگرچه ان كا شوق اور ان كي خواهش فلموںميں نغمه گو كي حيثيت سے اپني شناخت قائم كرنے كي تھي، ليكن اپني بے مثال صلاحيتوں سے انهوںنے هدايت كاري ميں نئي نئي بلندياں حاصل كيں اور وه فلمي دنيا كے ليے ايك مثال بن گئے۔ پركاش مهرا كي پيدائش مغربي اترپرديش كے بجنورميں 13جولائي 1939كو هوئي، ليكن ان كا بچپن بريلي ميں بھي گزرا۔ بجنور سے انهوںنے هائي اسكول كيا، اس كے بعد وه دهلي آگئے، ليكن ان كا شوق اوران كے تابناك مستقبل كا راسته تو ممبئي كي طرف جاتا تھا۔ لهٰذوه كمسني ميں هي ممبئي كي جانب كھنچے چلے آئے۔ 1950كے آخر ميں پهلے كچھ فلمسازوں كے ساتھ معاون كے طور پر كريئر كي شروعات كي ۔ اس كے بعد خود فلمسازي كے ميدان ميں اترگئے۔ پھر كبھي انهوں نے پيچھے مڑ كر نهيں ديكھا اور اپنے كريئر اور هندي فلموں كو بلنديوں تك لے گئے۔ ابتدا ميں اگرچه انهيں اپنے كريئر كو آگے بڑھانے كے ليے جدوجهد كرني پڑي، ليكن كريئر كي شروعات كے 18سال بعد وه اچانك هندي فلموں ميں ايسے سورج كي طرح طلوع هوئے كه جس كي روشني هندوستاني سنيما ميں چهار سو پھيلي۔ ششي كپور كے ڈبل رول والي فلم ٫٫حسينه مان جائے گي٬٬ ميں جب پركاش مهرا نے اپنے هنر كا جادو بكھيرا، تو فلمي دنيا ميں هر كوئي ان كا لوها ماننے لگا۔ اس فلم نے انهيں ايك نئي شناخت دي اور انهوں نے بتاديا كه ان كا حوصله او ران كے ارادے بهت بلند هيں۔ انهوںنے دكھا ديا كه وه هندي فلموں كو نئي سمت دينے اور بلنديوں تك لے جانے كا ماده ركھتے هيں۔ اميتابھ بچن كو لے كر بنائي فلم ٫٫زنجير٬٬ سے انهوں نے يه ثابت بھي كردكھايا۔ يهيں سے پركاش مهرا اوراميتابھ بچن كي قسمت كا ستاره چمكا۔ حيران كردينے والي بات يه هے كه پركاش مهرا نے صر ف ايك روپے ميں اميتابھ كو فلم ٫٫زنجير٬٬ كے ليے سائن كيا تھا۔ اسي فلم كے بعد اميتابھ بچن كو ٫٫اينگري ينگ مين٬٬ كا خطاب ملا۔ فلم ٫٫زنجير٬٬ سے شروع هوا اميتابھ كا يه سفر ٫٫صدي كے عظيم اداكار٬٬ كے خطاب تك پهنچا۔ فلم ٫٫زنجير٬٬ ميں اميتابھ كي اينٹري كيسے هوئي، اس سے متعلق ايك قصه آج بھي بالي ووڈ ميں مشهورهے۔ دراصل پركاش مهرا نے اپني اسي فلم كے ليے پهلے ديوآنند سے رابطه كيا، وهاں بات نهيں بني، اس كے بعد راجكمار سے بھي بات نهيں بن پائي۔ راجكمار فلم ميں اميتابھ اور پران دونوں كے رول كرنا چاهتے تھے، جو ممكن نهيں تھا۔ پركاش نے اپنے ايك انٹرويو ميں كهاتھا كه وه اس فلم ميں دھرميندركو لينے كے بارے ميں سوچ رهے تھے، ليكن پران نے ان سے اميتابھ كا ذكر كيا۔ اميتابھ اس وقت ٫٫بامبے ٹو گووا٬٬ فلم ميں مصروف تھے۔ بهرحال سليم جاويد سے بات چيت هوئي اور اميتابھ بچن كو سائن كرليا گيا۔ اس كے بعد فلم تيارهوئي اوراس كي كاميابي نے هندي فلموں ميں ايك نئي عبارت لكھي۔ اس كے بعد پركاش اوراميتابھ كي جوڑي نے ايك كے بعدايك 6سپرهٹ فلميں ديں۔ زنجير، شرابي، هيرا پھيري، لاوارث، نمك حلال اور مقدر كا سكندر جيسي سپرهٹ فلميں بناكر واقعي اميتابھ كومقدر كا سكندر بناديا۔ پركاش مهرا هندي سنيما كے پهلے ڈائريكٹر تھے ،جنهوںنے بالي ووڈ ميں اپنا مقام بنايا۔ انهوں نے هالي ووڈ فلموں كے مشهور ڈائريكٹر فينك يانڈولينو كے ساتھ مل كر ٫٫دي گاڈ كنكشن٬٬ فلم بنائي۔ ان كي بے پناه صلاحيتوں كے اعتراف ميں انهيں 2006ميں انڈيا پكچر ڈائريكٹرس ايسوسي ايشن كي جانب سے لائف ٹائم اچيومنٹ ايوارڈپيش كيا گيا۔ اس كے علاوه 2008ميں انڈيا موشن پكچر پروڈيوسرس ايوسي ايشن نے بھي انهيں لائف ٹائم اچيومنٹ ايوارڈ سے نوازا۔ پركاش مهرا نے جن اهم اور كامياب فلموں ميں هدايت كاري كي، ان ميں ٫٫ميلا٬٬(1971) ٫٫سمادھي(1972) ٫٫آن بان(1972) ٫٫ايك كنواري ايك كنوارا٬٬(1973) ٫٫هاتھ كي صفائي٬٬ (1974) ٫٫هيرا پھيري٬٬ (1976) ٫٫خليفه٬٬(1976) ٫٫آخري ڈاكو٬٬ (1978) ٫٫ديش دروهي٬٬ (1980) ٫٫جواله مكھي٬٬(1980) ٫٫نمك حلال٬٬ (1982) ٫٫آئو پيار كريں٬٬ (1983) ٫٫شرابي٬٬ (1984) اور ٫٫جادوگر٬٬ (1989) شامل هيں۔ جن فلموں كے ڈائريكٹر اور پروڈيوسر دونوں رهے هيں۔ ان ميں ٫٫زنجير٬٬(1973) ٫٫مقدر كا سكندر٬٬(1987) ٫٫لاوارث٬٬ (1989) ٫٫مقدر كا فيصله٬٬ (1987) ٫٫ايماندار٬٬(1987) ٫٫ايماندار٬٬(1987) ٫٫محبت كے دشمن٬٬ (1989) ٫٫زندگي ايك جوا٬٬ (1992) اور ٫٫بال برهم چاري٬٬ شامل هيں۔ اس كے علاوه انهوں نے ٫٫دلال٬٬ (1993) اور ٫٫گھنگھرو٬٬(1983) كو صرف پروڈيوس كيا۔

.......................................

Tuesday, March 31, 2009


विलायत का यह फर्जी ग्रेजुएट

हिंदू कट्टरवाद का नया चेहरा वरुण , जिस के नाम के साथ ' गाँधी ' शब्द लिखते हुए भी शर्म आती है, आए भी क्यूँ न ॥ क्यों कि उस के जो कारनामे सामने आए हैं उस से उस ने गाँधी की विरासत को मिट्टी में मिला दिया है । जब मुसलमानों के ख़िलाफ़ उस के मार काट करने वाले भाषण सामने आए और उस ने चन्द वोटों की खातिर समाज को बाटने की कोशिश की, उसी समय कई प्रश्न दिमाग में उठने लगे ......
कि आख़िर लन्दन का एक ग्रेजुएट नौजवान ऐसी विषैली भाषा का इस्तेमाल क्यों कर रहा है ? गंगा जमुनी तहजीब वाले इस देश में वो क्यूँ नफरत की दीवारें खड़ी करना चाहता है ? क्या वो लन्दन से यही सब पढ़ कर आया है ? यह और न जाने कितने सवाल दिमाग में आने लगे ...........
जब कोई उच्च शिक्षा ग्रहण कर लेता है चाहे वो देश में प्राप्त की हो या फिर विदेश में ... तो उस से उम्मीद की जाती है कि वो देश की तरक्की और खुशहाली के लिए काम करेगा ..... लेकिन वरुण के मामले में तो इस के विपरीत हो रहा है । आख़िर हो भी क्यूँ न !
वरुण ने न तो लन्दन से वो शिक्षा प्राप्त की है जो वो बता रहा है और न ही भारतीय सभ्यता का कोई पाठ पढ़ा है ... इस के ऊपर से वो एक ऐसी पार्टी से राजनीति की ट्रेनिंग ले रहा है , जिस की नींव ही नफरत, दहशत, वहशत और कट्टरता पर रखी गयी है .................
पीलीभीत में अपने भड़काऊ और विषैले भाषणों के कारण जेल की हवा खाने वाले वरुण की जो नयी काली करतूत सामने आयी है उस के अनुसार वरुण ने अपनी ज़मानत अर्जी में जिन डिग्रियों का हवाला दिया वो फर्जी हैं ..... यानी वो लन्दन से ग्रजुएट है ही नही ..... वरुण ने दावा किया कि वो लन्दन स्कूल आफ इकानोमिक्स से ग्रजुएट है और स्कूल आफ ओरिएण्टल एंड अफ्रीकन स्टडीज से एम् एस सी की । वरुण के वकील ने दुनिया को झुट्लाते हुए कोर्ट से कहा कि वरुण पढ़े लिखे और अमन पसंद शहरी है ( जो कि हम सब जानते हैं कि वो कितना अमन पसंद अहै ) इस करतूत का परदा फाश उस वक़्त हुआ जब स्कूल आफ ओरिएण्टल एंड अफ्रीकन स्टडीज की एक फैकल्टी मेंबर और पूर्व छात्रा जेबा सलमान ने कई लोगों को भेजे अपने ई मेल में बताया कि वरुण ने अपना कोर्स कम्प्लीट ही नही किया था । इसी प्रकार एल एस ई के एक सीनिअर एड्मिनिस्तेटरके अनुसार वरुण ने एल एस ई में एडमिशन के लिए दरखास्त दी थी , परन्तु उन्हें एडमिशन नहीं मिला था ..............
यह हैं हमारे भविष्य के नेता के काले कारनामे । ऐसे लोग जब सत्ता में बैठेंगे , तो उन से हम क्या उम्मीद कर सकते हैं ..... पहले शिक्षा के नाम पर देश को धोका और फिर देश में महिज़ कुछ वोटों की खातिर समाज को विभाजित करने का प्रयास करना .......
क्या राजनीति में कामयाबी का एक यही रास्ता है ......? जिस पर चल कर वरुण आगे जाना चाहता है ?????
यह हर सच्चे और समझदार देश वासी को सोचना चाहिए कि ऐसे लोगों को सिर्फ़ और सिर्फ़ हम सब मिल कर रोक सकते हैं......

YameeN
................

Friday, February 20, 2009

क्या हो गया है हिन्दी न्यूज़ चैनलों को ........?


पाकिस्तान, तालिबान, अफगानिस्तान, आतंकवाद, तबाह हो जाएगा पाकिस्तान , मिट जाएगा तालिबान, ख़त्म हो जाएगा नामो निशान, अब हमला हो कर रहेगा, पाकिस्तान के अब गिनती के दिन रह गए ....................... यह.... और चीख पुकार करते, दहाड़ते इन जैसे ही न जाने कितने जुमले आज कल हमारे हिन्दी न्यूज़ चैनलों की शोभा बढ़ा रहे हैं ........


देश की भोली भाली जनता यह खबरें देखती है, सुनती है ....... कोई यह खबरे देख कर हँसता है , कोई मुस्कुराता है, कोई डर जाता है, कोई खौफज़दा हो जाता है, कोई पड़ोसी मुल्क से नफरत करने लगता है, तो कोई अपने ही देश के लोगों पर शक करने लगता है ............. लेकिन


किसी भी पढ़े लिखे और समझदार भारतवासी की समझ में आज तक शायद यह नहीं आया होगा की इस तरह की चीख पुकार करने , सनसनी फैलाने और दहाड़ने का मकसद क्या है.....? हां एक बात ज़रूर सामने आती है... वो यह के यह सब टी आर पी का खेल है


मीडिया का काम तो कम से कम यह नही होता के वो जनता में आक्रोश पैदा करे , लोगों को भड़काए .............


टी आर पी के इस खेल में हमरे अधिकतर न्यूज़ चैनल पत्रकारिता के मूल मन्त्र को बिल्कुल नज़र अंदाज़ कर रहे हैं ...........


यह समाये तोड़ने का नहीं , जोड़ने का है


अगर हमारा पड़ोसी बिगडैल है तो इस का मतलब यह नहीं हम भी वैसे ही हो जाएँ ..... नैतिकता , अखलाक, सभ्यता और भैचार्गी में बड़ी ताक़त होती है ...... गोला बारूद और बंदूक से भी ज़्यादा ...... यह एक बार नही बार हुआ साबित हो चुका है...... हो हुआ ऐसा उदाहरण नहीं मिलेगा जिस से यह साबित हो के जंग से कोई मसला हल hua हो ..............

.................................

Wednesday, January 28, 2009

पीएम् इन वेटिंग ....

........................ايك انار

بھيروں سنگھ شيخاوت،نريندرمودي،انل امباني، سنيل متل، اوما بھارتي، گووند اچاريه اور كليان سنگھ، كيا ان سبھي ميں كوئي يكسانيت تلاش كي جاسكتي هے؟ بھلے هي يه سبھي الگ الگ شعبوں، الگ الگ عهدوں اور الگ الگ جماعتوں سے تعلق ركھتے هوں ليكن ان سبھي نے اپني عمر بھر كي سماجي كمائي سے وزيراعظم كے عهدے كا خواب سجائے ايل كے اڈواني كي راه ميں كسي نه كسي طريقے سے روڑے اٹكاديے هيں۔ ان سبھي كو هم دو زمروں ميں تقسيم كركے اس بحث كو آگے بڑھاسكتے هيں، ايك سياسي اور دوسرا كارپوريٹ سيكٹر۔ ديكھنا يه هے كه اڈواني كو اصل مشكل گھر كے اندر هے يا گھر كے باهر۔ يعني ان كے وزيراعظم بننے كي راه ميں بڑي ركاوٹ ان كي اپني پارٹي اور اس سے وابسته لوگ بنيںگے يا پھر حزب اختلاف يا حريف جماعتيں۔ في الحال جو تصوير نظرآرهي هے اس سے تو ايسا محسوس هوتا هے كه اڈواني كو وزارت عظميٰ تك پهنچنے كے ليے پهلے اپني پارٹي اور اپنے هم نواو ں سے هي لوها لينا هوگا، اس كے بعد هي ان كا اصل مقابله حريف جماعتوں سے هوگا۔اس بحث كو سياسي اور كارپوريٹ دنيا كو سامنے ركھتے هوئے آگے بڑھانا زياده مناسب معلوم هوتا هے۔ سياسي سطح پر اس بحث كا آغاز سابق نائب صدر اور بي جے پي كے بزرگ ليڈر بھيروںسنگھ شيخاوت نے كيا، توكارپوريٹ يا كاروباري سطح پر انل امباني اور سنيل متل نے نريندر مودي كو ملك كي قيادت كے ليے موزوں قرار دے كر ايك هنگامه پيدا كرديا۔ كاروباري دنيا كي كچھ نامور هستيوں نے ايك ايسے انسان كا نام وزارت عظميٰ جيسے باوقار عهدے كے ليے پيش كيا، جس كي ذهنيت اور جس كي شخصيت صرف نفرت ،دهشت، خونريزي، ظلم وتشدد اور انتشار كي عكاسي كرتي هے۔ آخر يه لوگ اپنے نفع اور نقصان كے آگے يه كيوں بھول جاتے هيں كه ملك يا كسي رياست كي ترقي كا پيمانه صرف كارخانے يا فيكٹرياں نهيں هوتيں؟ سماجي مساوات، پيار محبت انسانيت اور سماج كے ايك ايك شهري كي ترقي وخوشحالي مكمل ترقي كا اصل پيمانه هوتي هے۔ كيا امباني اور متل نے كبھي اپني دوسري آنكھ سے گجرات كي دوسري تصوير بھي ديكھي هے؟ اگر نهيں، تو انهيں ايك مرتبه ضرور گجرات كے هي مختلف شهروں ميں 2002كي مسلم نسل كشي كے بعد بنائے گئے پناه گزين كيمپوں كا جائزه لينا چاهيے۔ انهيں ان علاقوں كا بھي دوره كرنا چاهيے جهاں مارچ 2002كے بعد ايك مخصوص فرقے كو اپنے گھربار اور كاروبار چھوڑنے پر مجبور كرديا گيا اور وه آج تك اپني واپسي كا انتظار كررهے هيں۔ امباني اور متل كو گجرات فسادات پر يوسي بنرجي كميشن رپورٹ كا جائزه بھي لينا چاهيے۔ انهيں سپريم كورٹ كے وه ريماركس بھي شايد ياد هوں جن ميں ملك كي عدالت عظميٰ نے ان كے پسنديده رهنما كو ٫نيرو٬ تك كها هے۔كارپوريٹ دنيا كے سهارے نريندر مودي ملك كے عوام كو جوآئينه دكھانے كي كوشش كررهے هيں وه اتنا دھندلا اور بدنما هے كه اسے صاف كرتے كرتے مودي اور ان كے مداحوں كو ايك عهد دركارهوگا۔ وزارت عظميٰ كے بظاهر متفقه اميدوار قرار ديے جانے والے لال كرشن اڈواني بھي اپني شدت پسند هندوليڈر كي شبيه كو ختم نهيں كرپائے هيں۔ 90كي دهائي ميں اڈواني نے ملك بھر ميں هندو مسلم فسادات كرواكر نفرت كا جو بيج بويا تھا اگرچه اس شجر سياه كي آبياري كاكام اب مودي اور توگڑيا جيسے انتهاپسند هندوليڈران نے سنبھال ليا هے ليكن اڈواني كي منفي كارگذاريوں كو ملك كے انصاف پسند اور مهذب سماج نے بھلاديا هو ايسا هرگز نهيں هے۔ يهي وجه هے كه ٫پي ايم ان ويٹنگ٬ كانعره بلند كرنے كے باوجود اڈواني نه صرف اين ڈي اے بلكه ديگر جماعتوں ميں بھي اپنے نام پر متفقه مهر نهيں لگوا سكے هيں۔ اڈواني، مودي اور كارپوريٹ دنيا كو ياد ركھنا چاهيے كه انساني لاشوں پر ايك محدود مدت اور حلقے تك تو سياست كي جاسكتي هے ليكن وزارت عظميٰ جيسے عهدے كے ليے ضروري هے كه اميدوار كي سياست پيار محبت، بھائي چارگي، امن وآشتي اور اتحاد واتفاق پر مبني هو۔جهاں تك مودي كا سوال هے تو كارپوريٹ دنيا نے اپنا نفع نقصان ديكھتے هوئے بھلے هي ان كا نام وزارت عظميٰ كے ليے پيش كرديا هو ليكن اڈواني واجپئي كے بعد راج ناتھ سنگھ اور بھيروں سنگھ شيخاوت اس عهده كے مضبوط دعويدار هيں اور ان كے دلوں ميں بھي ايك خواب هے جس كا اظهار وه وقت پر هي كريں گے۔ دوسري نسل كے بھي كئي ليڈران ابھي وقت كے انتظار ميں هيں۔ ان ميں پارٹي كے موجوده صدراج ناتھ سنگھ، سابق صدر مرلي منوهر جوشي، ارون جيٹلي، سشماسوراج اور اب مدھيه پرديش كے وزيراعليٰ شيوراج سنگھ چوهان بھي اس فهرست ميں شامل هوگئے هيں۔ راجناتھ سنگھ كي اگربات كي جائے تو وه بھلے هي اپني آبائي رياست اترپرديش تك ميں پارٹي كے ليے كچھ خاص نهيں كرپائے ليكن آر ايس ايس سے ان كي قربت ان كے كام آسكتي هے۔ پارٹي صدر هونے كے ناطے اگر وه آئنده عام انتخابات ميں كوئي كرشمه كرسكے تو وه اس كے بعد اپنے ليے كسي بڑے رول كي فراق ميں تو ضرور هيں۔بي جے پي وزيراعظم كے عهدے كے ليے گرچه لال كرشن اڈواني كا نام اعلان كرچكي هے ليكن بھيروں سنگھ شيخاوت ،راج ناتھ سنگھ ،مرلي منوهر جوشي اور نريندر مودي كي آرزوئوں كي تسكين كيسے هوگي اس پر بي جے پي كو ابھي نهيں تو كبھي نه كبھي ضرور غور كرنا هوگا ورنه وه دن دور نهيں كه بي جے پي كے اندورن خانه هي ميان سے تلوار نه نكل جائيں۔اس بات سے بھي انكار نهيں كيا جاسكتا كه بي جے پي كي خانه جنگي سے يوپي اے كو آنے والے پارليماني انتخابات ميں فائده هوسكتا هے۔

..............................

वाह रे राजनीति....!

हमारे देश की राजनीति भी क्या खूब है .... जिस तेज़ी और जिस चतुराई से हमारे नेता अपना चोल बदलते हैं उतनी तेज़ी से तो शायद समय भी नहीं बदलता..... जब तक हम गौर करते हैं या कुछ एक्शन लेना चाहते हैं तब तक बहुत देर हो चुकी होती है, फिर हमें एहसास होता है कि हम तो ठगे जा चुके हैं। यह हमारी राजनीति में एक बार नहीं बार बार हो रहा है । देश की भोली भाली और मासूम जनता अपने इन राजनेताओं पर बार बार भरोसा करती है और यह राजनेता हैं कि वो बार बार अपनी मासूम जनता को आसानी से बेवकूफ बना कर निकल जाते है......

अब मुलायम सिंह को ही देख लीजिए..... लगता था की इनका नाम भले ही मुलायम है लेकिन ये फिरका परस्तों और तथाकथित देश भक्तों के लिए तो कठोर हैं ही । कभी कभी इन्हों ने इस का प्रदर्शन भी किया ...लेकिन अब ऐसा लगता है की मुलायम सिंह को अब केवल सत्ता सुख ही नज़र आ रहा है... कहीं येही तो सच्चाईनही की उन्हें केवल वोटो की राजनीति करनी थी सो उन्हों ने मुस्लिम वोट बैंक का खूब फायदा उठाया । अब शायद उन्हें लग रहा है की मुस्लिम वोटों की ज़रूरत नहीं रही तभी तो उन्हों ने बाबरी मस्जिद के कातिलों में से एक कल्याण सिंह की कीमत एक दो नहीं करीब दर्जन भर मुस्लिम उम्मीदवारों , करोड़ों मुस्लिम वोटों और मुसलामानों की अमूल्य भावनाओं से अधिक लगाई है ।

खैर , मुलायम सिंह ने अगले एलक्शन के मद्दे नज़र ही यह आत्मघाती फैसला किया है तो उन्हें इलेक्शन में ही पता चल जायेगा की एक आरोपी और सज़ा याफ्ता कल्याण सिंह की कीमत अधिक है या फिर लाखों करोड़ों लोगों की आहत हुई भावनाएं अधिक असरदार हैं .....
आज़म खान, शफीकुर्रहमान बर्क , सलीम शेरवानी , शाहिद अखलाक , कमाल अख्तर , अफजाल अंसारी , अतीक अहमद ..... यह वो नाम हैं जिन से समाजवादी पार्टी के ताबूत में कीलें ठुक्नी शुरू होती हैं.... सिलसिला जारी है ...... बस अब इंतज़ार इस बात का है के ताबूत में आख़री कील कौन और कब ठोकी जाती है ................!

YameeN