پركاش مهرا نے اميتابھ كو بنايا ٫مقدر كا سكندر٬
كهتے هيں كه ايك مرد كي كاميابي ميں كهيں نه كهيں كسي عورت كا هاتھ هوتا هے۔ اسي طرح اگر هم كهيں كه كسي فلم اداكار كي اداكاري اور فنكاري نكھارنے ميں كهيں نه كهيں فلم ساز يا هدايت كار كا هاتھ هوتا هے، تو بيجا نه هوگا۔ اميتابھ بچن هندوستاني فلموں ميں سنگ ميل كي حيثيت ركھتے هيں۔ اميتابھ بچن نے فلموں كے ذريعه جو كاميابياںاور بلندياں حاصل كي هيں، ان ميں پردے كے پيچھے سے ايك شخص كا اهم رول رها هے۔ جب بھي اميتابھ بچن كي كاميابي اور ان كي بے مثال اداكاري كا ذكر آئے گا، تب تب پركاش مهرا كا نام ضرور سامنے آئے گا۔ جي هاں، پركاش مهرا، جواب همارے درميان نهيں هيں۔ انهوں نے نه صرف اميتابھ بچن كے اداكارانه جوهركو پهنچانا،بلكه انهيں هندوستاني فلموںميںاعلي مقام تك پهنچنے كا راسته بھي دكھايا۔ اس كے علاوه پركاش مهرا نے هندي فلموں كو ايك نئي سمت بھي دي۔ اگرچه ان كا شوق اور ان كي خواهش فلموںميں نغمه گو كي حيثيت سے اپني شناخت قائم كرنے كي تھي، ليكن اپني بے مثال صلاحيتوں سے انهوںنے هدايت كاري ميں نئي نئي بلندياں حاصل كيں اور وه فلمي دنيا كے ليے ايك مثال بن گئے۔ پركاش مهرا كي پيدائش مغربي اترپرديش كے بجنورميں 13جولائي 1939كو هوئي، ليكن ان كا بچپن بريلي ميں بھي گزرا۔ بجنور سے انهوںنے هائي اسكول كيا، اس كے بعد وه دهلي آگئے، ليكن ان كا شوق اوران كے تابناك مستقبل كا راسته تو ممبئي كي طرف جاتا تھا۔ لهٰذوه كمسني ميں هي ممبئي كي جانب كھنچے چلے آئے۔ 1950كے آخر ميں پهلے كچھ فلمسازوں كے ساتھ معاون كے طور پر كريئر كي شروعات كي ۔ اس كے بعد خود فلمسازي كے ميدان ميں اترگئے۔ پھر كبھي انهوں نے پيچھے مڑ كر نهيں ديكھا اور اپنے كريئر اور هندي فلموں كو بلنديوں تك لے گئے۔ ابتدا ميں اگرچه انهيں اپنے كريئر كو آگے بڑھانے كے ليے جدوجهد كرني پڑي، ليكن كريئر كي شروعات كے 18سال بعد وه اچانك هندي فلموں ميں ايسے سورج كي طرح طلوع هوئے كه جس كي روشني هندوستاني سنيما ميں چهار سو پھيلي۔ ششي كپور كے ڈبل رول والي فلم ٫٫حسينه مان جائے گي٬٬ ميں جب پركاش مهرا نے اپنے هنر كا جادو بكھيرا، تو فلمي دنيا ميں هر كوئي ان كا لوها ماننے لگا۔ اس فلم نے انهيں ايك نئي شناخت دي اور انهوں نے بتاديا كه ان كا حوصله او ران كے ارادے بهت بلند هيں۔ انهوںنے دكھا ديا كه وه هندي فلموں كو نئي سمت دينے اور بلنديوں تك لے جانے كا ماده ركھتے هيں۔ اميتابھ بچن كو لے كر بنائي فلم ٫٫زنجير٬٬ سے انهوں نے يه ثابت بھي كردكھايا۔ يهيں سے پركاش مهرا اوراميتابھ بچن كي قسمت كا ستاره چمكا۔ حيران كردينے والي بات يه هے كه پركاش مهرا نے صر ف ايك روپے ميں اميتابھ كو فلم ٫٫زنجير٬٬ كے ليے سائن كيا تھا۔ اسي فلم كے بعد اميتابھ بچن كو ٫٫اينگري ينگ مين٬٬ كا خطاب ملا۔ فلم ٫٫زنجير٬٬ سے شروع هوا اميتابھ كا يه سفر ٫٫صدي كے عظيم اداكار٬٬ كے خطاب تك پهنچا۔ فلم ٫٫زنجير٬٬ ميں اميتابھ كي اينٹري كيسے هوئي، اس سے متعلق ايك قصه آج بھي بالي ووڈ ميں مشهورهے۔ دراصل پركاش مهرا نے اپني اسي فلم كے ليے پهلے ديوآنند سے رابطه كيا، وهاں بات نهيں بني، اس كے بعد راجكمار سے بھي بات نهيں بن پائي۔ راجكمار فلم ميں اميتابھ اور پران دونوں كے رول كرنا چاهتے تھے، جو ممكن نهيں تھا۔ پركاش نے اپنے ايك انٹرويو ميں كهاتھا كه وه اس فلم ميں دھرميندركو لينے كے بارے ميں سوچ رهے تھے، ليكن پران نے ان سے اميتابھ كا ذكر كيا۔ اميتابھ اس وقت ٫٫بامبے ٹو گووا٬٬ فلم ميں مصروف تھے۔ بهرحال سليم جاويد سے بات چيت هوئي اور اميتابھ بچن كو سائن كرليا گيا۔ اس كے بعد فلم تيارهوئي اوراس كي كاميابي نے هندي فلموں ميں ايك نئي عبارت لكھي۔ اس كے بعد پركاش اوراميتابھ كي جوڑي نے ايك كے بعدايك 6سپرهٹ فلميں ديں۔ زنجير، شرابي، هيرا پھيري، لاوارث، نمك حلال اور مقدر كا سكندر جيسي سپرهٹ فلميں بناكر واقعي اميتابھ كومقدر كا سكندر بناديا۔ پركاش مهرا هندي سنيما كے پهلے ڈائريكٹر تھے ،جنهوںنے بالي ووڈ ميں اپنا مقام بنايا۔ انهوں نے هالي ووڈ فلموں كے مشهور ڈائريكٹر فينك يانڈولينو كے ساتھ مل كر ٫٫دي گاڈ كنكشن٬٬ فلم بنائي۔ ان كي بے پناه صلاحيتوں كے اعتراف ميں انهيں 2006ميں انڈيا پكچر ڈائريكٹرس ايسوسي ايشن كي جانب سے لائف ٹائم اچيومنٹ ايوارڈپيش كيا گيا۔ اس كے علاوه 2008ميں انڈيا موشن پكچر پروڈيوسرس ايوسي ايشن نے بھي انهيں لائف ٹائم اچيومنٹ ايوارڈ سے نوازا۔ پركاش مهرا نے جن اهم اور كامياب فلموں ميں هدايت كاري كي، ان ميں ٫٫ميلا٬٬(1971) ٫٫سمادھي(1972) ٫٫آن بان(1972) ٫٫ايك كنواري ايك كنوارا٬٬(1973) ٫٫هاتھ كي صفائي٬٬ (1974) ٫٫هيرا پھيري٬٬ (1976) ٫٫خليفه٬٬(1976) ٫٫آخري ڈاكو٬٬ (1978) ٫٫ديش دروهي٬٬ (1980) ٫٫جواله مكھي٬٬(1980) ٫٫نمك حلال٬٬ (1982) ٫٫آئو پيار كريں٬٬ (1983) ٫٫شرابي٬٬ (1984) اور ٫٫جادوگر٬٬ (1989) شامل هيں۔ جن فلموں كے ڈائريكٹر اور پروڈيوسر دونوں رهے هيں۔ ان ميں ٫٫زنجير٬٬(1973) ٫٫مقدر كا سكندر٬٬(1987) ٫٫لاوارث٬٬ (1989) ٫٫مقدر كا فيصله٬٬ (1987) ٫٫ايماندار٬٬(1987) ٫٫ايماندار٬٬(1987) ٫٫محبت كے دشمن٬٬ (1989) ٫٫زندگي ايك جوا٬٬ (1992) اور ٫٫بال برهم چاري٬٬ شامل هيں۔ اس كے علاوه انهوں نے ٫٫دلال٬٬ (1993) اور ٫٫گھنگھرو٬٬(1983) كو صرف پروڈيوس كيا۔
.......................................

No comments:
Post a Comment