थ्येटर के स्तम्भ का गिर जाना
सच में हबीब तनवीर भारतीये थ्येटर के स्तम्भ थे । स्तम्भ इस लिए, क्यूंकि उन्होंने थ्येटर या नाटक को नई शक्ल दी, उसे नया रास्ता दिखाया। स्तम्भ इस लिए भी क्यूँ की उन्होंने अपने काम के द्वारा देश में नफरत के सौदागरों के सामने कभी झुकना नहीं सीखा, और स्तम्भ इस लिए भी क्यूंकि उन्होंने दूसरे लोगों को भी बेखौफ हो कर मुल्क की गंगा जमुनी विरासत को बचाए रखने के लिए संघर्ष करना सिखाया। इसे स्तम्भ ही कहेंगे की उन्होंने अपने जीवन के अन्तिम दिनों तक सिर्फ़ और सिर्फ़ अपने फन यानी ड्रामा और थ्येटर को अपना ओढ़ना बिछौना बनाये रखा। अगरचे मैं उन के इन्तेकाल तक उनके बारे में केवल उतना ही जनता था, जितना कि दूसरे आम लोग .... लेकिन जब राष्ट्रीय सहारा उर्दू ने उन्हें श्रधांजलि अर्पित करने के लिए उसी दिन एक विशेष पेज प्रकाशित करने का निर्णय लिया और मुझे भी इस में कुछ जिम्मेदारी दी गयी तो वाकई उन की शख्सियत के बारे में जान कर हैरत हुई ....... अफ़सोस भी हुआ कि आख़िर इतनी अजीम शख्सियत से मैं अब तक अज्ञान- क्यों था .... बहरहाल मैंने हबीब तनवीर के कुछ साथियों , उन के कुछ चाहने वालों और उन्हें बहुत करीब से जानने वालों से हबीब तनवीर के बारे में गुफ्तगू की ...... उन लोगों ने थ्येटर के भीष्म पितामह के बारे में क्या राये पेश कीं , मैं आप के स्त शेयर करना चाहता हूँ .................. आप को भी उन की अजमत का अंदाजा होगा ........!!!!!!!!!!!!!
यामीन अंसारी
آه حبيب تنوير
هندوستاني تھيٹر كے ستون كا گر جانا
واقعي حبيب تنوير هندوستاني تھيٹر كے ستون تھے۔ستون اس لئے بھي كيوں كه انھوں نے ملك ميں تھيٹر يا ڈرامه كو نئي شكل دي، نئي سمت دي۔ ستون اس لئے بھي كيوں كه انھوں نے اپنے فن كے ذريعه ملك ميں نفرت كے سوداگروں كے سامنے كبھي جھكنا نهيں سيكھااور ںتون اس لئے بھي كيوں كه انھوں نے دوسرے لوگوں كو بھي بے خوف وخطر هو كر ملك كي گنگا جمني تهذيب كي بقا كے لئے جدو جهد كرنا سكھايا۔اسے ستون هي كهيں گے كه انھوں نے اپني زندگي كے آخري دنوں تك صرف اور صرف اپنے فن يعني ڈرامه نگاري كو اپنا اوڑھنا بچھونا بنائے ركھا۔اگر چه ميں ان كے انتقال تك ان كے بارے ميں صرف اتنا هي جانتا تھا، جتنا كه دوسرے لوگ۔ ليكن جب روزنامه راشٹريه سهارا نے انهيں خراج عقيدت پيش كرنے كے لئے جب خصوصي صفحه شائع كرنے كا فيصله كيا اور مجھے بھي اس ميں كچھ ذمه داري دي گئي تو واقعي ان كي شخصيت كے بارے ميں جان كر حيرت هوئي...... افسوس بھي هوا كه آخر اتني عظيم شخصيت سے ميں اب تك بے بهره كيوں تھا۔بهر حال ميں نے حبيب تنوير كے كچھ ساتھيوں ، ان كے كچھ مداحوں اور انهيں بهت قريب سے جاننے والے كچھ لوگوں سے ان كے بارے ميں گفتگو كي...... ان لوگوں نے حبيب تنوير كے بارے ميں كيا رائے پيش كيں ،ميں آپ كے ساتھ بھي شيئر كرنا چاهتا هوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آپ كو بھي ان كي عظمت كا اندازه هوگا
قدامت پسندوں كے آگے نهيں جھكے ايم كے رينا، معروف تھيٹر ڈائريكٹر و آرٹسٹ
حبيب تنوير هندوستاني تھيٹر كے سب سے ضبوط ستون تھے، ان كے انتقال سے پوري ثقافتي،ادبي اور تھيٹر كي دنيا گهرے صدمے ميں هے۔ انھوں نے اپنے ڈراموں اور اسٹيج كے ذريعه آخري دم تك ملك ميں قدامت پرستوں اورشدت پسندوںكے خلاف جو لڑائي لڑي هے وه اس ملك كے لئے بيش قيمتي سرمايه هے۔انھوں نے 50 سال سے زائد عرصے تك اپنے فن كے ذريعه ملك كي جو خدمت كي هے وه آنے والي نسلوں كے لئے مشعل راه هے۔ان كے جانے سے همارے مهذب سماج ميں جوخلا پيدا هوا هے، اس كا پر هونا تو مشكل هے، ليكن اب ان كے كام كو آگے بڑھانے كي ايك بڑي ذمه داري هم لوگوں پر آگئي هے۔ هميں ابھي يه سوچ سوچ كر فكر هو رهي هے كه ان كے بغير آنے والا تھيٹر كيسا هوگا۔ان كے كام كو كس طرح آگے تك لے جانا هے، هميں اب اس بارے ميں سنجيدگي سے غور كرنا هے۔انھوں نے خاص طور پر هندو قدامت پرستوں اور شدت پسندوں كو آخري دم تك چيلنج كيا۔انھوں نے كبھي اس كے لئے ٹكراو كا راسته اختيار نهيں كيا، بلكه هميشه اپنے فن كے ذريعه منھ توڑ جواب ديا۔يهي وجه هے كه زندگي كے آخري ايام ميں بھي وه شدت پسندوں كي آنكھوں ميں كھٹكتے رهے۔ابھي تقريبا دو ماه قبل مدھيه پرديش كي بي جے پي حكومت كے كلچرل ڈپارٹمنٹ كي جانب سے پورے ملك كے فنكاروں كو بلايا گيا، ليكن حبيب تنوير كو مدعو نهيں كيا گيا۔جب ميرے پاس اس كا دعوت نامه آيا تو ميں نے ان سے كها كه ملك كا سب سے بڑا فنكار اور تھيٹر كا ستون آپ كے گھر ميں هي هے اور آپ نے انھيں مدعو تك نهيں كيا ، تو يه فنكاروں كا كيسا اجتماع هے۔ لهٰذا مجھ جيسے نه جانے كتنے لوگ اس پروگرام ميں نهيں گئے۔
پوري زندگي هي تھيٹر تھي پرويز احمد، ايڈيٹر، اے آر وائي اردو چينل
حبيب تنوير گنگاجمني تهذيب كي زنده مثال تھے ، لوگ گنگاجمني تهذيب كي باتيں كرتے هيں، ليكن انهوں نے اپنے فن اور عمل سے يه ثابت كركے دكھايا هے۔اس طرح حبيب تنوير نے هندوستاني تھيٹر كو ايك نئي سمت دي۔وه نه صرف ايك ڈرامه نگار تھے،بلكه وه ايك اداكار، هدايت كار،ڈرامه نويس اور اچھے شاعر بھي تھے۔انھوں نے اپنے ڈراموں ميں هميشه سماج كے سروكاروں كو سامنے ركھ كر كام كيا۔وه هميشه ان لوگوں كے خلاف لڑتے رهے جو سماج كو تقسيم كرنا چاهتے تھے اور ملك ميں نفرت كا بازار گرم كرنا چاهتے تھے۔اگر هم انھيں قريب سے ديكھيں تو انھوں نے اپني پوري زندگي هي جيسے تھيٹر كے لئے وقف كر دي تھي۔ان كے گھر ميں داخل هوتے هي ايسا محسوس هوتا تھا، جيسے كسي تھيٹر ميں آگئے هوں ۔ تھيٹر يا ڈرامه نگاري ان كا پيشه نهيںان كي زندگي كا ايك حصه تھا۔
بے خوف كام كرنے كي ترغيب دي لو كيندر ترويدي، معروف تھيٹر ڈائريكٹر و آرٹسٹ
حبيب تنوير كا انتقال ادب اور تھيٹر كي دنيا كے لئے بهت بڑا نقصان هے۔انهوں نے اپنے ڈراموں كے ذريعه سماج كو ايك سمت دي۔ انھوں نے هميں سكھايا كه كس طرح بے خوف هو كر هميں اپنا كام كرتے جانا هے اور سماج كو اتحاد و اتفاق اور هم آهنگي كي تعليم ديني هے۔وه هميشه انتها پسندي كے خلاف كھڑے رهے۔انھوں نے اس لڑائي ميں يه نهيں ديكھا كه ان كا كيا نقصان هے۔حبيب تنوير نے اپنے فن كا بخوبي استعمال كرتے هوئے هوئے سماج كو ايك منفرد سمت دي اور ايك نظريه پيش كيا كه كس طرح هميں ملك اور قوم كو دنيا ميں نظير بنانا هے۔انھوں نے اپنے ڈراموں ميں عام زندگي كے رنگوں كو لوگوں كے سامنے ركھااور عام هندوستاني كے مسائل اور ان كي پريشانيوں كو پيش كيا۔اب هماري ذمه داري هے كه كس طرح ان كے كام كو آگے لے جانا هے۔
انتها پسندي كے خلاف مضبوط آواز تھے انيس اعظمي، تھيٹر آرٹسٹ
حبيب تنوير كا اس دار فاني سے كوچ كرنا هندوستاني تھيٹر كے لئے بهت بڑا سانحه هے۔يه همارے لئے بڑے افسوس كي بات هے كه ايك ايك كر كے ان كے هم عصر بھي اس دنيا سے جاتے رهے۔ انھوں نے اپني پوري زندگي ميں تھيٹر كے علاوه كچھ نهيں كيا، گويا كه ان كي زندگي هي ايك تھيٹر تھي۔فوك ميوزك اور آرٹ ميں حبيب تنوير كے علاوه پوري صدي ميں كوئي نظر نهيں آتا۔ انھوں نے اس فن ميں جو خدمات انجام دي هيں،اس كا كوئي ثاني نهيں هے۔هندوستان ميں صحيح معنوں ميں برسٹين تھيٹر كے روح رواں تھے۔انھوں نے ايك رهنما كے طور پر برسٹين تھيٹر كو هندوستان ميں فروغ ديا اور لوگوں كو اس سے روشناس كرايا۔ملك ميں انتها پسندي كے خلاف انھوں نے جو آواز بلند كي اس كا اثر هميں بخوبي نظر آتا هے۔ان كے اهم كارناموں ميں ايك كارنامه يه هے كه انھوں نے ملك بھر ميں ڈرامه نگاري پر سيكڑوں وركشاپ كيں،جس سے انھوں نے هزاروںنوجوانوںكو اس فن سے نه صرف روشناس كرايا بلكه انھيں اس فن سے جوڑا بھي هے۔يهي هزاروں نوجوان ان كي خدمات سے روشني حاصل كر كے ان كے بيش قيمتي مشن كو آگے بڑھائيں گے۔ان كي تحريريں، ان كے ڈرامے ، ان كي خدمات اور ان كے چاهنے والے كبھي ان كو مرنے نهيں ديں گے۔
همه جهت شخصيت شرد دت، دور درشن كے سابق ڈپٹي ڈائريكٹر
مجھے ابھي تك ياد هے جب ميں 1964 ميں ان سے پهلي مرتبه ملا تھا۔اس وقت غالب پر ايك خصوصي تقريب كا انعقاد كيا گيا تھا، جس ميں انھوں نے تقريبا 4-5 ڈرامے كئے تھے۔اس ميں ايك ڈرامه غالب كي شخصيت پر تھا، جس ميں انھوں نے غالب كا رول خود كيا تھا۔كهنے كا مطلب يه هے كه حبيب تنوير صرف ايك ڈرامه نگار هي نهيں تھے، بلكه وه ايك ادا كار ، شاعر ، سماجي كاركن اور مكمل همه جهت شخصيت كے مالك تھے۔انھوں نے اپني پوري زندگي تھيٹر كے لئے وقف كر دي تھي۔ان كي اس قرباني كا اندازه اس بات سے لگايا جا سكتا هے كه جب وه راجيه سبھا كے ممبر تھے اور انھيں سركاري بنگله ملا، تو انھوں نے وهاں بھي اپني تھيٹر كي سرگرمياں جاري ركھيں۔ان كے سركاري بنگلے ميں بھي اسيا لگتا تھا جيسے ڈرامه كا اسٹيج تيار هے۔ انھيں كبھي كسي عهدے كا لالچ نهيں رها ۔يهي وجه هے كه وه اپني زندگي كے آخري ايام تك ڈراموں سے وابسته رهے۔
ان كے نا م پر اداره قائم كيا جائے رام گوپال، بجاج، سابق ڈائريكٹر اين ايس ڈي
حبيب تنوير هندوستاني تھيٹر كے ايك اهم ستون تھے۔وه هندوستاني ڈرامه نگاري ميں صدي كي عظيم شخصيت تھے۔انھوں نے ملك ميں تھيٹر كو ايك نئي سمت عطا كي تھي۔وه شمبھو متر اور اتپل دت كي طرح هي ايك بڑے ڈرامه نگار تھے۔حكومت كو چاهئے كه وه حبيب تنوير كے نام پر ڈرامه نگاري كا كوئي نه كوئي اداره قائم كرے۔تاكه ان كے كام كو جاري ركھا جا سكے اور انھوں نے جو خدمات انجام دي هيں ان كا اعتراف كرتے هوئے ان كے مشن كو آگے بڑھايا جا سكے۔
پيش كش يامين
........
1 comment:
Hi,
your Blog is effective and very impressive.
اللہ آپ کو مزید کامیابیوں، ترقیوں، نیک نامی و شہرت، عزت و عظمت سے نوازے۔ آمین برائے یامین
Post a Comment